Site Loader

کمپیو ٹر کا ایک تعارف اور اس کی مختصر تاریخ کمپیوٹر لفظ اتنا زیادہ عام ہوگیا ہے کہ اب سبھی افراد اس کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں  کمپیوٹر آٹومیٹک مشین کا متبادل بن گیا ہے کمپیوٹر وہ مشین ہے جسے طرح طرح کے کاموں کو خود بخود یکسوئی سے کرنے کے لئے ڈیزائن کیا جا سکتا ہے کمپیوٹر کے جس سب سے عام شکل سے عوام کا واسطہ پڑا ہے وہ ہے پرسنل کمپیوٹر یا پی سی(personal computer)  جسے اطلاعات کے تجزیہ(Information Processing) کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے  جنہیں عام طور پر دنیا دفتربینک یا ریزرویشن دفاتر میں دیکھا جا سکتا ہے

 انسان اپنی تاریخ کے اوائل زمانے سے ہی مشینوں اور آلات کے ایجادات میں مصروف ہے جو دماغی محنت والے کاموں میں اس کی مدد کر سکیں۔ اپنے تاریخی ترقیاتی دور میں انسان نے سب سے پہلے تختئہ شماریا گنتارے(ABACUS) جیسی مشین بنائی۔تختئہ شمار کی ترقی سب سے پہلے میسوپوٹامیا میں ہوا۔ بعد میں یہ مصر، یونان ،جاپان اور روس کی ترقی میں پایا۔ تختئہ شمار کی مدد سے اعداد و شمار کا کام کافی تیزی سے کیا جا سکتا تھا ایک لکڑی کے چوکھٹے پر کئی ایک طرح کے تار لگے ہوتے ہیں جن میں پانچ یا اس سے زائد دانے لگے ہوتے ہیں ان دانوں کو ایک طرف سے سرکا کر جوڑ،گھٹاؤ ضرب،تقسیم کے کام انجام دیے جاتے ہیں۔

 اس آلہ کی ترقی کے بعد کئی صدیوں تک سخت محنت کے بعد انسان نے کئی طرح کی طریقئہ شمار(Counting style) بنائے جیسے رومن اس کا استعمال ہم آج تک کرتے ہیں آخرکار اعشاریہ ہی سب سے زیادہ کارگر ثابت ہوا اور آج پوری دنیا میں اس کا استعمال ہو رہا ہے۔ تخئہ شمار کے بعد شماری کے کام کے لیے کئی افراد نے مختلف طریقے ایجاد کیے جن میں ہاتھی کے دانت کو چھڑکی شکل دے کر اس پر اعداد کنندہ کرکے کیا جانے کا کام بھی شامل ہے۔ انیس سو ستر1970 میں پاکٹ کلکولیٹر کی ایجاد کے بعد مذکورہ قسم کے طریقے ماند پڑگئے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران کمپیوٹر سائنس کے میدان میں کافی تیزی آئی کیوںکہ ان کا استعمال فوج اور حفاظتی انتظامات میں کیا جانے لگا تھا۔ سبھی طرح کے فوجی اور اہم اطلاعات خفیہ طریقےسے(Coded) بھیجے جاتے تھے جس کے لئے کمپیوٹر کا استعمال کیا جانے لگا تھا انیس سو سینتیس1937 میں برطانوی ریاضی داں ایلن ٹیورنگ(Alan Turing) نے پراعتماد طریقے سے بتایا کہ مشکل سے مشکل حساب کا کام چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے یہاں یہ امرذہن نشین کرلینا چاہیے کہ کسی بھی مشین کو صحیح طریقے سے کام کرنے کے لیے کچھ ایسے سوئچوں کی ضرورت ہوتی ہے جو معمولی سی بجلی کا اشارہ ملنے پر آن /آف ہوسکیں۔ انیس سو چھیالیس1946 میں امریکی سرکارکی رہنمائی میں بنے اے نیک(Aenek) سے موسم دنیا کا سب سے پہلا کمپیوٹرسوئچ کی شکل میں الیکٹرانک والو(Vacuum Tube) کا استعمال کیا گیا تھا۔ اے نیک کے ذریعے ایک سیکنڈ میں 5000 میزان یا 350 ضرب /تقسیم کا کام کیا جاسکتا تھا۔ چار لاکھ ڈالرکی لاگت سے بنایہ کمپیوٹر پوری طرح سے خود کار طریقے سے شماری کا کام کرتا تھا اس لیے یہ دنیا کا سب سے پہلا کمپیوٹر تسلیم کیا گیا اس کے الکٹرانک ویکیوم والو پر منحصر کئی کمپیوٹر ایک کے بعد ایک بنے جیسے کہ ایڈساک، بیناک،یونی واک وغیرہ۔ان سب کو دور اول کاکمپیوٹر تسلیم کیا گیا۔ ان سب میں یونی واک(UNIVAC) ہی تجارتی اعتبار سے سب سے زیادہ مشہور ہوا اور اس کمپیوٹر نے اپنی بنانے والی فرم آئی بی ایم کو کمپیوٹر کی سب سے بڑی فرم کی شکل میں قائم کر دیا۔

ونی واک سے پہلے کمپیوٹر کو صرف ریضی کے کام کے لیے بنایا جاتا تھا اور اس کا سائز بھی کافی بڑا ہوتا تھا لیکن یونی واک نے یہ ثابت کر دیا کہ کمپیوٹر کا استعمال معلومات اور تجزیہ فراہم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا سکتا ہے انیس سواڑ تالیس عیسوی 1948میں ٹرانزسٹر کے ایجاد کے بعد اس کے حجم نے کافی تبدیلی آئی۔ ٹرانزسٹر کو کمپیوٹر میں استعمال کئے جانےکےبعد کمپیوٹر کا حجم مزید چھوٹا ہونے لگا اور اس کی اہمیت بھی بڑھی۔ یہیں سے کمپیوٹر کا دوسرا دور شروع ہوا۔

کمپیو ٹر کے اقسام (Type of computers)

 آئی بی ایم کے ذریعہ بنایا گیا صدقہ 7090 ماڈل دوسرے دور کا پورے طریقے سے ٹرانزسٹر پر منحصر کمپیوٹر تھا یہ کمپیوٹر اہم تحقیقی مراکزاور اداروں کے لیے بنایا گیا تھا بذریعہ روس خلا میں آدمی کے بغیر گاڑیوں کو بھیجنے کے بعد ہی یہ کوششیں ہونے لگیں کہ کس طرح الیکٹرانک آلات کے حجم کو چھوٹا کر کے کم سے کم کیا جائے اور کس طرح کمپیوٹر کا سائز چھوٹا کیا جائے۔ اسی طرح کی ایک کوشش میں ٹکساس انسٹرومنٹ کمپنی کے جی ایس کلوی(J S kilvi) نے انیس سو اٹھاون1958 میں ایک چھوٹے سے چپ کی شکل میں ایک مکمل انٹری گریٹڈ سٹرکٹ بنایا جیسے آی سی(I.C) کہا جانے لگا چپ سے بنے ہوئے کمپیوٹر کو تیسرے دور کا کمپیوٹر کہا جانے لگا۔ اس دور میں مِنی کمپیوٹر بننے شروع ہوئے جن کا سائز ایک چھوٹے سے کیبنیٹ کے برابر ہوا کرتا تھا۔ ساتھ ہی چھوٹے سائز کے ڈاٹ میٹرکس پرنٹر بھی بننے لگے۔ فورٹران اور کوبول جیسے پروگرام کے زبان کا نکھار بھی انہی دنوں ہوا۔ کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ ٹی وی(TV) جیسے چھوٹے مانیٹروں کا رواج بھی انہی دنوں ہوا۔ انیس سو ترسٹھ1963  میں ڈیجیٹل ای کیوپمنٹ کارپوریشن(Digital Equipment Corporation) نے دنیا کا سب سے پہلا منی کمپیوٹر PDP-5 صرف 27000 ڈالر قیمت کے ساتھ پیش کیا۔

 اس سے پہلے چپ کمرشیل ہو جانے کے بعد کمپیوٹر سائنسدان چپ کے سائزکو چھوٹا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ امیریکن فرن ان ٹل کارپوریشن کے ٹیڈ ہاف نے انیس سو چوہتر 1974عیسوی اِن ٹل 4004نامی چپ بنائی جزیرہ جس کی ترقی یافتہ شکل 8008پر دنیا کا پہلا مائیکرو کمپیوٹر بنایا گیا انیس سو چھہتر1976 میں امریکہ کے دو طالب علموں نے  اسٹیو جاؤ نے بہت کم خرچ میں ایسا کمپیوٹر بنا ڈالا جسے ماچس کے ڈبے میں بند کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ویزؤل ڈسپلے(Visual Display) یونٹ(Monitor) جوڑ کر ایک بکسے کی مائیکرو کمپیوٹر بنا ڈالا جس کے ذریعے کمپیوٹر کی دنیا میں انقلاب آگیا۔ طرح طرح کے مائیکرو کمپیوٹر چوتھے دور کے کمپیوٹر کی شکل میں پوری دنیا کے بازار میں چھا گئے۔ زمانے اول کی عطا کردہ کردہ کردہ کمپیوٹروں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ صلاحیت رکھنے والا کمپیوٹر کا کارخانو سے نکل کر کی میز پر آگیا۔

Post Author:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *